برصغیر کی فلمی تاریخ میں کچھ نام ایسے ہیں جو وقت کے گرد و غبار میں بھی دھندلے نہیں پڑے اور گاہے بگاہے کسی نے کسی حوالے سے ان کا ذکر ہو ہی جاتا ہے۔
ثریا بھی انہی روشن ناموں میں سے ایک ہیں جو جتنی بڑی اداکارہ تھیں اتنی ہی مقبول گلوکارہ بھی رہیں۔ وہ اپنے ان دونوں کردار میں ایسی دل نشیں رہیں کہ پردہ سیمیں پر ان کی موجودگی خود ایک مکمل منظر بن جاتی تھی۔
ثریا کی آواز میں ایک قدرتی مٹھاس تھی، بناوٹ سے پاک، جیسے کسی پرانی حویلی کے صحن میں صبح کی ہوا۔ یہی سبب تھا کہ وہ اپنی بیشتر فلموں میں خود اپنے گیت گاتی تھیں۔ اس زمانے میں جب پلے بیک aسنگنگ کی روایت مضبوط ہو رہی تھی، ثریا کی مہارت ایک نادر بات تھی۔
ثریا کی آواز میں ایک قدرتی مٹھاس تھی، بناوٹ سے پاک، جیسے کسی پرانی حویلی کے صحن میں صبح کی ہوا۔ یہی سبب تھا کہ وہ اپنی بیشتر فلموں میں خود اپنے گیت گاتی تھیں۔ اس زمانے میں جب پلے بیک aسنگنگ کی روایت مضبوط ہو رہی تھی، ثریا کی مہارت ایک نادر بات تھی۔
ثریا کی آواز میں ایک قدرتی مٹھاس تھی، بناوٹ سے پاک، جیسے کسی پرانی حویلی کے صحن میں صبح کی ہوا۔ یہی سبب تھا کہ وہ اپنی بیشتر فلموں میں خود اپنے گیت گاتی تھیں۔ اس زمانے میں جب پلے بیک aسنگنگ کی روایت مضبوط ہو رہی تھی، ثریا کی مہارت ایک نادر بات تھی۔