لندن کی سڑکوں پر بیدار ضمیر کی صدا

admin

31 January 2026

admin

از: سیّد حذیفہ علی ندوی، کیمبرج، برطانیہ

سارا جہان فریبِ راحت میں ہے؛
اصل درد تو غزہ میں لہو بن کر بہہ رہا ہے۔

اتوار کے روز لندن کی فضا میں ایک غیر معمولی منظر رقم ہوا۔ فلسطین کے حق میں چھ لاکھ پچاس ہزار سے زائد افراد سڑکوں پر جمع تھے۔ حیرت انگیز بات یہ تھی کہ ان میں اکثریت غیر مسلم تھی — وہ لوگ جو رنگ اور نسل کی تقسیم سے بالاتر ہو کر صرف انسانیت، عدل اور سچائی کے لیے نکلے تھے۔ ان کے چہروں پر درد، عزم اور مظلوموں کے ساتھ سچی ہمدردی کی روشنی تھی۔

اسی ہجوم میں میری ملاقات ایک بزرگ شخص سے ہوئی، جنہوں نے گلے میں ایک ہاتھ سے لکھا ہوا بورڈ لٹکایا تھا، جس پر درج تھا:

“میں نفرت پھیلانے کے لیے سڑک پر نہیں نکلا۔ میں اس لیے نکلا ہوں کہ غزہ میں نسل کشی، فلسطینیوں پر 77 سال سے جاری ظلم و ستم، اور اسرائیلی جنگی جرائم میں برطانوی شراکت پر اپنے غصے اور احتجاج کا اظہار کر سکوں۔”

میں نے ان کی تصویر لی — اور اس لمحے دل میں ایک گہرا اطمینان اُترا کہ انسانیت کا احساس اب بھی زندہ ہے، اور یہ احساس کسی مذہب کا محتاج نہیں۔

میں علماء کے بلاک کا حصہ ہونے کے ناتے اس مظاہرے میں مدعو تھا۔ یہ دیکھ کر دل مطمئن ہوا کہ وہاں نہ صرف عدل و انصاف کے نعرے بلند ہو رہے تھے بلکہ قرآنِ کریم بھی تقسیم کیے جا رہے تھے۔ گویا احتجاج کے ساتھ ساتھ یہ ایک دعوت کا موقع بھی بن گیا تھا، جس میں اسلام کی اصل روح — علم، رحمت اور عدل — خاموشی سے دلوں تک پہنچ رہی تھی۔ اسی موجودگی نے پورے مارچ کو ایک وقار اور معنویت عطا کی، اور یہ احساس پیدا کیا کہ امت کی قیادت شور سے نہیں، علم، حلم اور بصیرت سے آتی ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top